ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / دنیا کی چوٹی کی20یونیورسٹیاں ہندوستان میں قائم ہوں گی:جاوڈیکر

دنیا کی چوٹی کی20یونیورسٹیاں ہندوستان میں قائم ہوں گی:جاوڈیکر

Sat, 07 Jan 2017 23:17:32    S.O. News Service

بنگلور:7/جنوری (ایس او نیوز)انسانی وسائل کے فروغ کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج کہا کہ ملک کی تعلیم کے معیار اور سطح کو بہتر بنانے کیلئے ہندوستان میں دنیا کی چوٹی کی بیس یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔مسٹر جاوڈیکر نے یہاں چودہویں پرواسی بھارتیہ دیوس کانفرنس سے قبل یووا پرواسی دیوس کانفرنس کے ایک اجلاس میں یہ جانکاری دی۔ انہوں نے کانفرنس میں آئے ملک اور بیرون ملک کے نوجوانوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ انہیں غیر مقیم ہندوستانی کمیونٹی کے بچوں کی تعلیم کے مسائل اور معاملات کی جانکاری ہے اور حکومت کے پاس اس کے حل کیلئے ایک معتبر اور ٹھوس منصوبہ عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان تعلیم کے معاملہ میں ایک وقت دنیا میں سرفہرست تھا۔ نالندہ، تکشلا، وکرم شیلا، ولبھی، سوم پور، اودنت پوری وغیرہ یونیورسٹیوں میں دور دور سے لوگ پڑھنے آتے تھے،لیکن بعد میں ایک منظم طریقے سے ہندوستانی تعلیمی اداروں اور نظام تعلیم کو تباہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی حملہ آوروں نے ان تعلیمی اداروں کو برباد کردیا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری طاقت ان تعلیمی اداروں میں پوشیدہ ہے اور وہ اس سے حسد کرتے تھے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک کے تعلیمی نظام کے معیار کو سدھارنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے نالندہ میں یونیورسٹی قائم کی گئی ہے، اسی طرح ملک میں دنیا کے بیس چوٹی کے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے۔ ان میں دس یونیورسٹی پرائیوٹ سیکٹر کے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محکمہ نے نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے پالیسی اور گائیڈ لائنس تیار کرلئے ہیں اور جلد ہی انہیں نافذ کیا جائے گا۔مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ ہندوستان میں پرواسی بھارتی طالب علموں کی پڑھائی اور ان کے کیریئر کے لئے بھرپور امکانات موجود ہیں۔حکومت نے دستاویزات کی تصدیق کے لئے ایک قومی تعلیمی ڈپازیٹری قائم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے ایک ایجنسی کے قیام کی منظوری دے دی ہے جو اہم تعلیمی اداروں میں اعلیٰ سطحی ڈھانچہ جاتی سہولیات فراہم کرنے کیلئے سرمایہ دے گی۔ اس کی کل پونجی 2000کروڑ روپے ہوگی۔ جس میں نصف حصہ داری حکومت کی ہوگی۔ ایجنسی کا حجم بعد میں بیس ہزار کروڑ تک ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے بیرونی ملکوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے معاملات پر بھی سنجیدگی سے غور و خوض کیا ہے اور ان کے حل کے لئے بھی مل کر کام کیا جارہا ہے۔ حکومت ہندوستانی اور غیر مقیم ہندوستانی طالب علموں کو اسکالرشپ دینے کیلئے گلوبل ریسرچ انٹر ایکٹیو نیٹ ورک پروگرام شروع کرنے جارہی ہے۔ اس سے ان طلبہ کو بیرونی ملکوں کے تجربہ گاہوں میں کام کرنے اور خواہش ہونے پر وہاں سے لوٹ کر ملک میں ریسرچ جاری رکھنے کی سہولت ملے گی۔ اس سے صلاحیتوں کو باہر جانے سے روکنے میں مدد ملے گی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت بہت سرگرم ہے اور بہت جلد ہی اس کے بہترین نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔


Share: